کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 373
465۔مسئلہ۔ وہ عورت جو اپنی ساس سے سختی سے پیش آتی ہے اور اس کے ساتھ اپنی طرف سے مشکلات پیدا کرتی ہے تاکہ خاوند اپنی ماں سے دور ہو جائے۔ یہ حرام کام ہے اورچغل خوری ہے،اللہ پناہ دے!نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے: ((لَا يدْخل الْجنَّة قَتَّات)) [1] ”چغل خور جنت میں داخل نہیں ہوگا۔“ اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن دوقبروں کے پاس سے گزرے انھیں عذاب ہورہا تھا،توفرمایا: ((إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ، وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لاَ يَسْتَتِرُ مِنَ الْبَوْلِ، وَأَمَّا الآخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ))[2] ”یقیناًان دونوں کو عذاب دیاجارہا ہے اور کسی بڑے گناہ پر سزا نہیں دی جارہی ،ان میں سے ایک پیشاب سے نہیں بچتا تھا اوردوسرا چغل خور تھا۔“ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ چغل خوری عذاب قبر کا موجب ہے،اللہ پناہ دے،اس عورت کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور اپنےخاندان اور اس کی ماں کے مابین جدائی مت ڈالے اورفراق کے لیے اپنی طرف سے حرام باتیں نہ گھڑے،اور اگر کبھی کوئی اشکال اس کے اور اس کی ساس یا اسسر کے درمیان ہوجائے تو اس کا حل بغیر فراق اور جُدائی کے ہونا چاہیے۔(ابن عثيمين:نور علي الدرب:۔۔۔۔۔) [1] ۔ متفق عليه :صحيح البخاري (6056) ،صحيح مسلم(169/105) [2] ۔ متفق عليه :صحيح البخاري (5705) ،صحيح مسلم(292)