کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 369
واجب ہے، چچے اور ماموں سب سے صلہ رحمی کرنا انسان پر واجب ہے، لیکن اگر عورت ان کی محرم نہ ہوتو اس کے لیے حلال نہیں کہ ان کی طرف جائے، مصافحہ کرے اور چہرہ ننگا کرے، کیونکہ یہ سب غیر محرموں کی نسبت سے اسی پر حرام ہے، لیکن وہ گھر والی عورتوں سے پوچھے، تم کیسی ہو؟ مرد کیسے ہیں؟ بچوں کا کیا حال ہے؟ جو فوت ہو چکے ہیں جن سے اس نے صلہ رحمی نہیں کی تھی تو اپنی قطعی تعلقی کی معافی مانگے، اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرے اور ان فوت شدگان کے لیے استغفار کرے، یقیناً یہ ان سے صلہ رحمی ہے۔ (ابن عثيمين :نور علي الدرب،: 18) 461۔میں صلہ رحمی کرتا ہوں جبکہ وہ قطعی تعلقی کرتے ہیں۔ صلہ رحمی واجب ہے، خواہ وہ صلہ رحمی کریں یا نہ کریں،اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَيْسَ الْوَاصِلُ بِالْمُكَافِئ))[1] ”صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں جو برابر برابر کا معاملہ کرتا ہے۔“ یعنی صلہ رحمی اس صورت کرتا ہے جبکہ اس کے ساتھ صلہ رحمی کی جاتی ہے، بلکہ فرمایا: ((إنما الواصل من إذا قُطِعَتْ رَحِمُهُ وصلها)) ”صلہ رحمی کرنے والا بس وہ ہے جو تب بھی صلہ رحمی کرے جبکہ اس سے قطع تعلقی کی جارہی ہے۔“ سو صلہ رحمی واجب ہے،وہ صلہ رحمی کریں یا نہ کریں۔(ابن عثيمين :نور علي الدرب،: 7) [1] صحيح البخاري،رقم الحديث(5991)