کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 368
”بے شک بندہ جب کسی چیز پر لعنت کرتا ہےتو لعنت آسمان کی طرف چڑھ جاتی ہے اس کے لیے آسمان کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، پھر وہ زمین کی طرف گرتی ہے، اس کے دروازے بھی بند کر دیے جاتے ہیں، پھر دائیں بائیں جاتی ہے، اگر کوئی راستہ نہ ملے تو جس پر لعنت کی گئی ہوتی ہے اس کی طرف لوٹتی ہے، اگر وہ اس لعنت کا مستحق ہوتا ہے تو اس پر ہوجاتی ہے اور اگر وہ اس کا مستحق نہیں ہوتا تو لعنت کہنے والے پر ہی لعنت ہو جاتی ہے۔“ لعنت حرام اور بہت بڑا گناہ ہے،مسلمان گالی گلوچ اور لعن طعن نہیں کرتانہ ہی فحش گو بد اخلاق ہوتا ہے، اس کی دلیل وہ حدیث ہے جسے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ((لَيْسَ الْمُؤْمِنُ بِالطَّعَّانِ، وَلَا اللَّعَّانِ، وَلَا الْفَاحِشِ، وَلَا الْبَذِيءِ))[1] ”مؤمن لعنت بھیجنے والا، طعن کرنے والا، فحش گو اور بد اخلاق نہیں ہوتا۔“ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گالی دینے والے فحش گو اور لعن طعن کرنے والے نہیں تھے،تم میں سے کسی کو ڈانٹتے تو بس اتنا فرماتے: ((مالَهُ؟ تَرِبَ جَبِينُهُ))[2] ”اسے کیا ہے؟اس کی پیشانی خاک آلود ہو!“ (اللجنة الدائمة:19350) 460۔جن رشتوں کو ملانا واجب ہے۔ ماں یا باپ کی جانب سے جو رشتے استوار ہوتے ہیں،ان کی صلہ رحمی [1] صحيح ،سنن الترمذي،رقم الحديث (1977) [2] صحيح البخاري،رقم الحديث(6031)