کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 367
جب یہ آدمی اپنے والدین کے لیے لوگوں کی لعنت کا باعث ہے تو وہ آدمی کیسا ہے جو اپنے والدین پر بذات خود لعن طعن کرتاہے؟یاخود ہی اپنے اوپر لعن طعن کرتا ہے؟جس طرح کہ یہ عورت ہے جو اپنی اولاد کے والدین پر لعن طعن کرتی ہے،ایسا آدمی گناہ اللہ کے غصے اور لعنت کازیادہ مستحق ہے،اور زیادہ ممکن ہے کہ اس کی لعنت اس کی طرف لوٹ آئے،اس کی دلیل صحیح مسلم میں ہے،حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ((قال لعن اللّٰه من لعن والده ولعن اللّٰه من ذبح لغير الله ولعن اللّٰه من آوى محدثا ولعن اللّٰه من غير منار الأرض))[1] ”اللہ کی لعنت ہے اس پر جس نے غیر اللہ کےلیے ذبح کیا اور اللہ کی لعنت ہے جس نے کسی بدعتی کو جگہ دی،اور اللہ کی لعنت ہے اس پر جس نے اپنے والدین پر لعنت کی اور اللہ کی لعنت ہے اس پر جس نے زمین کے نشانات کو بدلا۔“ اسی طرح وہ حدیث جسے حضرت ام درداء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے ابودرداء رضی اللہ عنہ سے سناکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ((إنَّ العبْد إِذَا لَعنَ شَيْئاً، صعِدتِ اللَّعْنةُ إِلَى السَّماء، فتُغْلَقُ أبْوابُ السَّماءِ دُونَها، ثُمَّ تَهبِطُ إِلَى الأرْضِ، فتُغلَقُ أبوابُها دُونَها، ثُّمَّ تَأخُذُ يَميناً وشِمالا، فَإذا لمْ تَجِدْ مَسَاغاً رَجَعَتْ إِلَى الَّذِي لُعِنَ، فإنْ كَانَ أهْلاً لِذلك، وإلاَّ رجعتْ إِلَى قائِلِها))[2] [1] ۔صحيح مسلم(43/1978) [2] ۔ حسن، سنن أبي داود رقم الحديث (4905)