کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 366
بعد ان کے ساتھ نیکی ہے،لیکن ان کے لیے اپنی معروف اور شرعی نماز کےساتھ نماز پڑھے یا ان کے لیے روزہ رکھے،اس کی کوئی بنیاد اور دلیل نہیں ہے۔(ابن عثيمين :مجموع الفتاويٰ والرسائل:642) 458۔بیٹے کی اپنے فوت شدہ باپ کے لیے نفلی نماز۔ انسان کے لیے جائز ہےکہ اپنے باپ یا کسی اور مسلمان کےلیے نفلی نماز پڑھے،جس طرح کہ جائز ہے کہ اس کی طرف سے صدقہ کرے،صدقات،نمازوں،روزے اور حج وغیرہ میں کوئی فرق نہیں۔ (ابن عثيمين :مجموع الفتاويٰ والرسائل:542) 459۔اس عورت کا حکم جو اپنے والدین پر اور اپنی اولاد کے والدین پر لعنت کرتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إنَّ مِن أكْبَرِ الكَبائِرِ أنْ يَلْعَنَ الرَّجُلُ والِدَيْهِ قيلَ: يا رَسولَ اللَّهِ، وكيفَ يَلْعَنُ الرَّجُلُ والِدَيْهِ؟ قالَ: يَسُبُّ الرَّجُلُ أبا الرَّجُلِ، فَيَسُبُّ أباهُ، ويَسُبُّ أُمَّهُ.)) [1] ”بے شک کبیرہ گناہوں میں سے ہے کہ آدمی اپنے والدین پر لعنت کرے،کہاگیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آدمی اپنے والدین پر کیسے لعنت کرتا ہے؟فرمایا:یہ دوسرے کے باپ کو گالیاں دیتا ہے اور وہ اس کے باپ کو گالیاں اور اس کی ماں کو گالیاں دیتا ہے“ [1] ۔ صحيح، سنن أبي داود رقم الحديث (5141)