کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 364
شرعی دلائل اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ والدین سے نیک سلوک اور احسان واجب ہے،بطور خاص ان کے بڑھاپے میں،فرمانِ الٰہی ہے: ((وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا)) (ا لأ سراء:23) ”اور تیرے رب نے فیصلہ کردیاہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ اچھاسلوک کرو۔“ اور ثابت ہے: ((وعن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: ((جاء رجل إلى رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم فقال يا رسول اللّٰه صلي اللّٰه عليه وسلم من أحق الناس بحسن صحابتي؟ قال: أمك قال: ثم من؟ قال: أمك. قال: ثم من قال: أمك. قال: ثم من؟ قال: أبوك))[1] ”ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! لوگوں میں سب سےزیادہ میرے حسنِ صحبت کا کون حقدار ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تیری ماں،اس نے کہا:پھر کون؟،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تیری ماں،اس نے کہا:پھر کون،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تیری ماں،اُس نے کہا:پھر کون،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تیراباپ۔“ چنانچہ عورت پر لازم ہے کہ پہلے اپنی ماں کےساتھ اچھا سلوک کرے،پھر اپنے باپ کے ساتھ اور اپنے خاوند کی نیک کام میں اطاعت کرے اور اچھے طریقے سے اسکے ساتھ رہے۔(اللجنة الدائمة:13167) [1] ۔ صحيح البخاري ،رقم الحديث (5626) صحيح مسلم ،رقم الحديث (2548)