کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 356
چھوڑا اور اگرایک عورت ہوتو اس کے لیے نصف ہے۔“ جس طرح کے بہنوں اوردیگر عورت کو ان کا وراثت کا حق دیا ہے ،اللہ تعالیٰ نے بیٹیوں کاحصہ وراثت میں مقرر کیا ہے اور بیٹوں کا بھی حصہ مقرر کیا ہے ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((إنَّ اللّٰهَ أعطى كلَّ ذي حقٍّ حقَّهُ))[1] ”یقیناً اللہ تعالیٰ نےہرحق والے کو اس کاحق دیا ہے۔“ عورت ذات فطرتی کمزوری اور کمانے سے عجز کی وجہ سے مرد کی نسبت وراثت کی زیادہ مستحق ہے،مرد توکماسکتا ہے،رزق کی تلاش میں دور دراز کاسفربھی کرسکتا ہے،بہرحال یہ تصرف درست نہیں ہے،عورتوں کو کمزور سمجھنا،ان پر غلبہ پالینا اور ان کا حصہ لے لینا،صحیح نہیں چاہے اس تبرع اور خوشی کی صورت میں ہو اور اس لیے بھی کہ وہ دلی خوشی سے نہیں دیتیں بلکہ شرم وحیا اور خوش معاملگی اور رکھ رکھاؤ کے طور پر دیتیں ہیں۔(الفوزان:المنتقيٰ:121) 439۔باپ کا اپنے کوتاہ وعاجز بیٹوں کا حق وراثت چھوڑدینا یا انھیں برطرف کرنا۔ باپ کا ان کے وراثتی حصے کو چھوڑنا یامعاف کردینا،ان کےحقوق میں تصرف ہے،اور باپ کا ان کے حقوق میں تصرف مصلحت نہیں ہے، جس طرح کہ یہ تصرف ایسا نہیں،جیساکہ باپ کے اپنے بیٹے کی ملکیت میں سے کسی چیز کے مالک بن جانےکے حوالے سے ہوتا ہے،کیونکہ باپ کا بیٹے کے مال میں سے کسی چیزکا مالک بن جانا تب ہے جب بیٹے کو اس چیز کی حاجت وضرورت [1] ۔ صحيح، سنن أبي داود رقم الحديث (3565)