کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 347
424۔ کافر کی مسلمان سے وراثت۔ اس میں اختلاف ہے، صحیح یہی ہے کہ کافر مسلمان کے وراث نہیں بن سکتے، اکثر اہل علم کا یہی قول ہے، کیونکہ فرمان نبوی ہے: ((لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ وَلَا الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ))[1] ”مسلمان کافر کا اور کافرمسلمان کا وراث نہیں بن سکتا۔“۔ اسے امام احمد، بخاری،مسلم اور اصحاب سنن نے روایت کیا ہے۔ (اللجنة الدائمة:9438) 425۔بیٹا اپنے باپ کا وارث بنا جبکہ دونوں ہی نصرانی تھے، پھر وہ مسلمان ہو گیا۔ جس وراثت کا تو اپنے باپ کی طرف سے وارث بنا جبکہ تم دونوں ہی نصرانی دین پر تھے، وہ صحیح وراثت ہے، اسلام تیرے اس مال کو لینے اور ملکیت بنانے میں رکاوٹ نہیں بنے گا۔ (اللجنة الدائمة:17855) 426۔بندہ فوت ہو گیا، ورثاء کے لیے مال چھوڑا اور قرض بھی تھا۔ جب فوت ہونے والا مقروض ہو، سب سے پہلے ادائیگی قرض واجب ہے، پھر اس کی شرعی وصیت کو نافذ کیا جائے گا، اگر اس نے وصیت کی ہو تو، پھر باقی ماندہ وراثت ورثاء میں تقسیم کی جائے گی۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ((يُوصِيكُمُ اللّٰهُ فِي أَوْلَادِكُمْ ۖ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ)) (النساء:11) [1] متفق عليه۔