کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 346
بیوی غیر مسلم ہو، اولاد دونوں سے ہو، کیا دوسری بیوی کی اولاد وراث بنے گی؟ موانع وراثت میں سے دین کا مختلف ہونا بھی ہے، اگر اس آدمی کی دوسری بیوی سے اولاد بھی ماں کی طرح غیر مسلم ہے تو وہ اپنے باپ کی وارث نہیں بنے گی،اسی طرح ان کی کافرماں اپنے مسلمان خاوند کی وارث نہیں بنے گی، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ وَلَا الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ))[1] ”مسلمان کافر کا اور کافرمسلمان کا وراث نہیں بن سکتا۔“ اگر کافر بیوی کی اولاد مسلمان ہو یا کچھ مسلمان ہوں تو غیر مسلم ہونا ان کی وراثت میں رکاوٹ نہیں بنے گا، اسی طرح جب وہ چھوٹے ہوں اور ابھی بالغ نہ ہوئے ہوں تو ان پر باپ کے مطابق اسلام کا حکم لگایا جائے گا، اور وہ وارث نہیں بنیں گے۔ (اللجنة الدائمة:20173) 423۔ مسلمان کی کافر سے وراثت۔ مسلمان اولاد جن کا باپ بحالت کفر فوت ہوا وہ اس کے وارث نہیں بنیں گے، اس کے متعلق دلیل وہ حدیث ہے جسے امام بخاری و مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے بیا ن کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ وَلَا الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ))[2] ”مسلمان کافر کا اور کافرمسلمان کا وراث نہیں بن سکتا۔“۔(اللجنة الدائمة:4149) [1] متفق عليه۔ [2] متفق عليه۔