کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 345
اور سستی و کاہلی کی وجہ سے نہ پڑھنا بھی علماء کے راجح قول کے مطابق کفر ہے،اس بنا پر جائز نہیں کہ مسلم کافر کا وارث بنے، اگرچہ مسلمان کافر کے بیٹوں سے ہی کیوں نہ ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ وَلَا الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ))[1] ”مسلمان کافر کا اور کافرمسلمان کا وراث نہیں بن سکتا۔“۔(اللجنة الدائمة:7109) 421۔اس کی وراثت جو ولیوں کے بارے میں غلط عقیدہ رکھتا ہے۔ جو شخص فوت شدگان کے متعلق عقیدہ رکھے کہ وہ نفع و نقصان کے مالک ہیں یا ان سے استغاثہ کرے یا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر انھیں پکارے،وہ مشرک ہو جائےگا،اگرچہ (أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ)پڑھتا ہو، روزہ اور نماز کا بھی پابند ہو،کیونکہ شرک کی وجہ سے اس نے ان اعمال کو ضائع کر لیا ہے۔فرمان باری تعالیٰ ہے: ((وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ))(الزمر:65) ”اور بلاشبہ یقیناً تیری طرف وحی کی گئی اور ان لوگوں کی طرف بھی جو تجھ سے پہلے تھے کہ بلاشبہ اگر تونے شریک ٹھہرایا تو یقیناً تیرا عمل ضرور ضائع ہو جائے گا اور تو ضرور بالضرور خسارہ اٹھانے والوں سےہو جائےگا۔“ 422۔غیر مسلم بیوی کی وراثت۔ سوال۔ جب ایک آدمی فوت ہو جائے اور اس کی دو بیویاں ہوں، دوسری [1] متفق عليه :صحيح البخاري (6764) ،صحيح مسلم(1/1614)