کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 344
سے مذکر والاآلہ ختم کردیاجائے گا،اور جب وہ چیز ظاہر ہوجو اس کے مذکر ہونے پر دلالت کرے، جیسا کہ داڑھی کا اُگ آنا اور مذکر والے آلے سے پیشاب کرنا،نیز دیگر علامات جنھیں ڈاکٹر پہچانتے ہیں تو اس پر مذکرکا حکم لاگو ہو گا اور مذکر والا معاملہ ادا کیا جائے گا، اس سے پہلے موقوف ہو گا تاآنکہ معاملہ واضح ہو جائے،بات کھلنے سے پہلے شادی نہیں کی جا سکتی اور وہ بلوغت کے بعد ہی ہو گا، جیسا کہ اہل علم نے فرمایا ہے۔(ابن باز:مجموع الفتاويٰ والمقالات:20/251) 419۔قاتل کی وراثت۔ قاتل مقتول کا وارث نہیں بن سکتا، جبکہ قتل جان بوجھ کر اور ظلم کی بنا پر کیا ہو، اسی طرح اگر قتل خطا ہو اس پردیت اور کفارہ لازم آتا ہو پھر بھی اس کا وارث نہیں بن سکتا، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((لیس للقاتل من المیراث شیء))[1] ”قاتل کے لیے وراثت سے کچھ بھی نہیں۔“ اہل علم کا اس پر اجماع ہے کہ قاتل مقتول کا وارث نہیں بن سکتا، جبکہ قتل ظلم کی بنیاد پر ہو، لیکن اگر باقی ورثاء در گزر کردیں اور اس کو شریک کر لیں تو کوئی حرج نہیں، بشرطیکہ وہ مکلف اور ہوشمند ہوں اور اجازت دیں کہ وہ بھی ان کے ساتھ وارث بن جائے،کیونکہ حق انھی کاہے اور وہ ساقط کر رہے ہیں۔(ابن باز:مجموع الفتاويٰ والمقالات:20/261) 420۔بیٹے کی باپ سے وراثت جبکہ وہ فرض نماز ادا نہ کرتا ہو۔ نماز کے وجوب کا انکارکرتے ہوئے اسے ترک کرنا بالا جماع کفر ہے [1] حسن۔سنن أبي داود رقم الحديث (4564)