کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 339
407۔ولدِ زنا کی وراثت۔ اسے جنم دیتے وقت اگر وہ خاوند کی عصمت میں تھی تو خاوند سے ہی ملحق کیاجائے گا،الا یہ کہ وہ لعان کےذریعہ اس کی نفی کردے اور اگربذریعہ لعان اس کی نفی کردے تو بچہ ماں سے لاحق ہوگا ماں کے عصبہ اس کے عصبہ سمجھے جائیں گے ،وہ ایسے ہے جیسے اس نےبغیر عصمتِ شوہر اس کو جنم دیاہے۔(اللجنة الدائمة:6759) 408۔پوتوں کی وراثت دادے سے۔ پوتے چچوں کی موجودگی میں دادا کے وارث نہیں بنیں گے،کیونکہ ان کی موجودگی میں وہ محروم ہوں گے،اس پر اہل علم کا اجماع ہے۔(اللجنة الدائمة:1934) 409۔مسئلہ مشرّ کہ میں وراثت۔ مسئلہ مشرّ کہ میں صحیح بات یہ ہے کہ حقیقی بھائی اخیافی بھائیوں کے ساتھ وارث نہیں بنتے،کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((ألحقوا الفرائض بأهلها، فما بقي فلأولى رجل ذكر))[1] ” فرض حصے ان کے مستحقین کو دے دو اور جو باقی بچے وہ زیادہ قریبی مذکر مردکےلیے ہے۔“ یہ مذہب امام احمد اور ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا ہے،یہی قول حضرت علی،ابن مسعود ،ابی بن کعب،ابن عباس اور ابو موسیٰ رضی اللہ عنہم سےمروی ہے اور حضرت [1] ۔ متفق عليه :صحيح البخاري رقم الحديث (6732) ،صحيح مسلم(1615)