کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 333
دویا دو سے زیادہ ہوں اورتین عدمی شروط ہیں کہ عصبہ نہ ہو،فرع وارث نہ ہو،مذکر وارث میں سے اصل نہ ہو۔ اور باپ کی طرف سے بہنیں پانچ شروط کےساتھ یہ حصہ لیتی ہیں:ایک شرط وجودی ہے کہ وہ دویا دو سےزیادہ ہوں،اور چار شروط عدمی ہیں کہ عصبہ نہ ہو ،فرع وارث نہ ہو،مذکر وارث کی اصل نہ ہو،حقیقی بہن اور حقیقی بہنیں نہ ہوں۔(ابن باز:مجموع الفتاويٰ والمقالات:20/120) 398۔ایک تہائی حصہ لینےوالے۔ ایک تہائی حصہ لینے والے دو ہیں،ماں اور ماں کی طرف سے بہن بھائی۔ ماں تین عدمی شروط کے ساتھ ایک تہائی کی مستحق بنتی ہے،فرع وارث کانہ ہونا،بہن بھائیوں کا زیادہ تعداد میں نہ ہونا یعنی جمع نہ ہوں اور اس سے مراد دویا دو سے زیادہ ہیں،چاہے دونوں مذکر ہوں یا دونوں مؤنث ہوں یادونوں مخنث ہوں یا دونوں مختلف حقیقی بھائی اوربہن ہوں یا باپ کی طرف سے ہوں یا ماں کی طرف سےہوں،وارث ہوں یاکسی شخص کی وجہ سے محروم کردیے گئے ہوں۔ تیسری شرط یہ کہ مسئلہ دو عمر یہ[1] مسئلوں میں سے نہ ہو،اور وہ یہ ہیں کہ خاوند ماں اور باپ ہو ،یابیوی ایک یازیادہ اور باپ ہو،ان دونوں میں ماں کو باقی ماندہ تیسرا حصہ ملے گا اور یہ پہلے مسئلہ میں چھٹا اور دوسرے میں چوتھا حصہ بنتا ہے۔ دوسرے ماں کی طرف سے بہن بھائی ہیں،یہ تین شروط کی بنیاد پر تیسرا حصہ حاصل کرتے ہیں،ایک شرط وجودی ہے کہ وہ دویا دو سے زیادہ ہوں اور دو [1] ۔وہ یہ ہیں کہ (1) عورت :خاوند ،باپ اور ماں کو چھوڑ کرمرے۔(2) مرد:بیوی ،باپ اور ماں کو چھوڑ کر فوت ہو۔