کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 330
غلامی: انسان سے قائم ہوجانے والی یہ ایک حکمی کمزوری ہے، اس کا سبب کفر ہے، غلام نہ وارث بنتا ہے نہ اس کا وارث بنا جاتا ہے اور نہ ہی رکاوٹ بنتا ہے۔ جس غلام نے کچھ قسطیں ادا کردی ہیں وہ اپنی آزادی کے بقدر وارث بنے گا، اس کا وارث بنا جائے گا اور وہ رکاوٹ بھی بنے گا۔ قتل: ایسا قتل جو قصاص، دیت یا کفارے کو واجب کردے، جو ایسا نہ ہو وہ مانع بھی نہیں۔ اختلاف دین: مسلمان کافر کا وارث نہیں بن سکتا، سوائے ولاء کے، اور کافرمسلمانوں کا وارث نہیں بن سکتا، سوائے ولاءکے، اگروراثت کی تقسیم سے قبل کافر مسلمان ہو جائے تو ترغیب اسلام کی خاطر اسے وارث بنایا جائے گا۔کفر کی کئی ملتیں ہیں اور حدیث کی روسے دو مختلف دین والے ایک دوسرے کے وارث نہیں بن سکتے۔ (ابن باز:مجموع الفتاويٰ والمقالات:20/115) 392۔مردوں میں سے وارث بننے والوں کا بیان۔ تفصیلاً مردوں میں سے وارث بننے والے پندرہ ہیں: بیٹا، پوتا، نیچے تک، باپ دادا باپ کی جانب سے اوپر تک صرف مذکر، حقیقی بھائی، باپ کی طرف سے بھائی، ماں کی طرف سے بھائی، سگے بھائی کا بیٹا، باپ کی طرف سے بھائی کا بیٹا نیچے تک، حقیقی چچا، باپ کی طرف سے چچا اوپر تک، حقیقی چچا کا بیٹا،باپ کی طرف سے چچا کا بیٹا نیچے تک ،خاوند ، آزاد کرنے والا۔(ابن باز:مجموع الفتاويٰ والمقالات:20/116)