کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 319
380۔والدہ کا اپنے نواسے کو دودھ پلانا۔ یہ حرام نہیں،اس کے لیے جائز ہے کہ اپنے نواسے اور اپنے بیٹے کو دودھ پلائے،اسی طرح اپنی سوکن کے بیٹے کو دودھ پلاسکتی ہے،ان سب میں کوئی مضائقہ نہیں۔(ابن عثيمين :نور علي الدرب،:1) 381۔رضاعی بھائی کی بیٹیوں سے نکاح۔ انسان کےلیے جائز نہیں کہ رضاعی بھائی کی بیٹیوں سےاور رضاعی بہن کی بیٹیوں سے نکاح کرے،کیونکہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ((حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ)) (النساء:23) ”حرام کی گئیں تم پر تمہاری مائیں اور تمہاری بیٹیاں اور تمہاری بہنیں اور تمہاری پھوپھیاں ،خالائیں ،اور بھتیجیاں اور بھانجیاں۔“ یہ سات نسب رشتہ داری کی وجہ سے حرام ہیں،اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((يَحْرُمُ مِنْ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنْ النَّسَبِ))[1] ”رضاعت سے بھی وہی رشتے حرام ہوتے ہیں جو نسب سے ہوتے ہیں۔“ انہی سات کی مانند سات رضاعی رشتے بھی حرام ہیں،چنانچہ انسان پر حرام ہے اس کی رضاعی ماں،رضاعی بیٹی،رضاعی پھوپھی،رضاعی خالہ،رضاعی بھتیجی ،نیچےتک ،رضاعی بھانجی،نیچے تک،جیسے وہ نکاح میں محرمات ہیں ایسے ہی وہ ان کے ساتھ خلوت میں جاسکتا ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ وہ اس کےسامنے [1] ۔ صحيح البخاري رقم الحديث(2645) صحيح مسلم(9/1445)