کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 317
بنیادپر کہتاہوں کہ وہ صرف ایک ہی صورت میں اس سے شادی کر سکتا ہے کہ جب بنات آدم میں سے سوائے اس کے کوئی نہ ہوتو پھر اس سے شادی کر سکتا ہے۔ نیز رضاعت وراثت پر اثر انداز نہیں ہوتی، اس پر اتفاق ہے،نہ ہی خرچ کے وجوب پر اور نہ ہی دیت کی ادائیگی کی فرضیت پر، نہ ہی کسی اور چیز پر۔ (ابن عثيمين :لقاء الباب المفتوح:125/27) 376۔اس لڑکی سے شادی کا حکم جس نے اس کے ساتھ صرف ایک مرتبہ دودھ پیا ہو۔ یہ جاننا لازم ہے کہ رضاعت میں پانچ بار پینا ضروری ہے، جو اس سے کم بار پیتا ہے اس کی کوئی تاثیر نہیں، اگر دو بچیاں ایک عورت کا دودھ ایک مرتبہ یا دو تین یا چار مرتبہ پیتی ہیں تو وہ آپس میں بہنیں نہیں ہوئیں، اس بنا پر ان دونوں سے بیک وقت نکاح درست ہے۔ (ابن عثيمين :لقاء الباب المفتوح:121/20) 377۔ جب واضح ہو جائے کہ اس کی بیوی اس کی رضاعی بہن ہے؟ جب کوئی آدمی کسی عورت سے شادی کرے اور اسے موانع نکاح میں سے کسی مانع کا وجود کا علم نہ ہو،بعدازاں پتہ چلے کہ وہ تو اس کی رضاعی بہن ہے،بایں طور کہ رضاعت دوسال کے اندر اندر پانچ دفعہ پینے سے ہوئی ہے تو فسخ نکاح واجب ہوجائے گا،اس عقد کے باطل ہونے کی وجہ سے ان میں جُدائی کردی جائے گی،چاہے دخول ہو یانہ،اور چاہے اس کے اس عورت سے ایک یا دوزیادہ بچے ہوں،رضاعت کے متعلق معلوم ہونے سے قبل آدمی کا بیوی سے