کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 316
یہ معلوم ہی ہے کہ بیوی کی ماں تجھ پر حرام ہے لیکن کس سبب سے؟نسب کی بنا پر یا سسرالی رشتے کی وجہ سے اور جب وہ مصاہرت کی وجہ سے حرام ہے تو حدیث کا مفہوم یہ ہوا کہ وہ تیرے لیے حرام نہیں ہے شیخ الاسلام رحمۃ اللہ علیہ کا موقف زیادہ صحیح ہے کہ تیری بیوی کی رضاعی ماں اور تیری بیوی کی رضاعی بیٹی تیری محرمات سے نہیں ہیں۔ اب یہ سوچنا باقی ہے کہ اگر انسان کی بیوی فوت ہو جائے تو کیا اس کی رضاعی ماں سے نکاح کر سکتا ہے؟ہم کہتے ہیں: بقول شیخ الاسلام رحمۃ اللہ علیہ کے یہ جائز ہے کیونکہ وہ اس پر حرام نہیں، لیکن میں یہ بات احتیاط سے کہتا ہوں کہ اس سے شادی نہ کرے، اس لیے کہ نفس مسئلہ میں لمبا چوڑا اختلاف ہے، انسان کے لیے اس کی حلت موجب توقف ہے، اگر کوئی کہنے والا کہے کہ تم کیسے کہہ سکتے ہو وہ اس سے نکاح نہ کرے، جبکہ تم کہتے ہو وہ اس کی محارم سے نہیں ہے؟یہ تو واضح تناقص ہے، ہم کہتے ہیں کہ احتیاط کے وقت دو حکموں کو جمع کرنے میں کوئی حرج نہیں، اس بارے ہماری حجت یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کےبارے کہ جس کے متعلق عبدبن زمعہ اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے جھگڑا کیا کس کے حق میں فیصلہ کیا؟یہ فیصلہ زمعہ کے حق میں کیا، اسی طرح وہ بچہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کا بھائی ہوا،لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کی واضح مشابہت عتبہ سے دیکھی تو اپنی بیوی سے فرمایا: ((أحتجي منه)) ”اس سے پردہ کرو۔“[1] یہ دو مختلف و متناقض حکموں کو حتیاطاً جمع کرنا ہے، تو میری رائے اس مسئلہ میں یہ ہے کہ بیوی کی رضاعی ماں اور رضاعی بیٹی محارم سے نہیں ہے، جیسا کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کا موقف ہے لیکن میں ورع و احتیاط کی [1] متفق عليه :صحيح البخاري (2053) ،صحيح مسلم(36/1457)