کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 314
((لَا رَضَاعَ إلَّا فِي الْحَوْلَيْنِ))[1] ”رضاعت صرف دو سال کےاندراندرہے۔“(ابن باز:مجموع الفتاويٰ والمقالات:22/286) 373۔رضاعی محرمات کا بیان۔ جب ایک انسان کسی عورت کا دودھ رضاعت شرعیہ سے پی لیتا ہے تو اس سے حرمت ثابت ہو جاتی ہے اور وہ ہے پانچ یا زیادہ مرتبہ پینا جبکہ بچی دوسال تک کی عمر کا ہو، اس سے اس پر دودھ پلانے والی، اس کی مائیں، بہنیں، پھوپھیاں، خالائیں،بیٹیاں، پوتیاں ، نواسیاں سب حرام ہوجاتی ہیں، کیونکہ فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ((يَحْرُمُ مِنْ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنْ النَّسَبِ))[2] ”رضاعت سے وہی رشتے حرام ہوتے ہیں جو نسب سے ہوتے ہیں۔“ لیکن جس عورت نے اسے دودھ پلایا ہے اس کی بیٹیاں اس کے بھائیوں پر حرام نہیں ہو جاتیں جنھوں نے اس عورت کا دودھ پیا، اس نے تو بس ان کے ایک بھائی کو دودھ پلایا ہے، اسی طرح اس عورت کے بیٹوں پر دودھ پینے والے کی بہنیں حرام نہیں ہیں، کیونکہ وہ اس کی بیٹیاں نہیں ہیں اور نہ ہی اس کے بیٹوں کی بہنیں ہیں،کیونکہ انھوں نے دودھ نہیں پیا، یہ سب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درج ذیل فرمان سے واضح ہوجاتا ہے کہ رضاعت سے وہی رشتے حرام ہوتے ہیں جو نسب سے ہوتے ہیں۔(ابن باز:مجموع الفتاويٰ والمقالات:22/300) [1] ۔صحيح سنن الدارقطني (4/174) رقم الحديث (11) [2] ۔ صحيح البخاري رقم الحديث(2645) صحيح مسلم(9/1445)