کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 312
”وہی رضاعت باعث حرمت ہے جو گوشت اگائے اور ہڈی بڑھائے۔“ بچے کا سانس لینے کی خاطر یا ایک پستان سے دوسرے پستان کی جانب جانے کی خاطر دودھ چھوڑنے کو ایک بار پینا تصورکیاجائے گا،جب بھی وہ ٹھہرے گا ایک بار شمار ہوگا اور اس طرح ہر دفعہ کا پینا سمجھا جائے گا۔ (اللجنة الدائمة:21057) 369۔حالت ِ جنابت میں بچے کو دودھ پلانا۔ بچے کوبحالت جنابت دودھ پلانے میں کوئی حرج نہیں۔(اللجنة الدائمة:9797) 370۔مسلمان اور عیسائیوں کاایک دوسرے کودودھ پلانا اور اس کا اثر۔ اولاً: مسلمان عورت کے لیے جائز ہے کہ عیسائی بچے کو دودھ پلائےاور عیسائی عورت کے لیے جائز ہے کہ مسلمان بچے کو دودھ پلائے،اس لیے کہ ان جیسے مسائل میں اصل جواز ہے اور اس کی ناقل کوئی دلیل موجود نہیں،بلکہ یہ بابِ احسان سے ہے اوراللہ تعالیٰ نےہرچیز پر احسان فرض کیاہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((فِي كُلِّ كَبِدٍ رَطْبَةٍ أَجْرٌ))[1] ”ہر ایک تر جگر میں اجر وثواب ہے۔“ ثانیاً: ان دونوں کے دودھ پلانے کیوجہ سے بچوں کا حکم نہیں بدلے گا،اس دودھ کے پلانے سے قبل جومسلمان تھا وہ دودھ پلانے کے بعد بھی مسلمان ہے اور جو دودھ پلانے سے قبل عیسائی تھا وہ بعد میں بھی عیسائی ہی ہے۔ (اللجنة الدائمة:4668) [1] ۔ متفق عليه :صحيح البخاري (2363) ،صحيح مسلم(153/2244)