کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 311
کی بات مانی جائے گی،پانچ بار ہونا اور دوسال میں ہونا لازم ہے،اس کا دعویٰ کرنےوالی عورت عادل یا ثقہ ہو یا کوئی آدمی گواہی دے یا زیادہ آدمی کہ عورت عادل یا ثقہ ہے۔(ابن باز:مجموع الفتاويٰ والمقالات:22/240) 367۔مصنوعی دودھ پلانے سےحرمت ثابت نہیں ہوتی۔ وہ اس وجہ سے بھائی بھائی نہیں بن پائیں گے کیونکہ مصنوعی دودھ شرعاً ایسی رضاعت نہیں جو باعث حرمت ہو۔ (اللجنة الدائمة:3085) اس نے اپنے بچے کو دودھ کےساتھ مصنوعی دودھ ملا کر پلوایا۔ عورت کا دودھ جو مصنوعی دودھ یا پانی وغیرہ سے ملایاگیا ہو اس کاحکم خالص دودھ والا ہے،جبکہ دودھ کی صفات باقی ہوں،کیونکہ جب صفات ظاہر ہوتی ہیں تو اس کا پینا ثابت ہوجاتا ہے،اور گوشت کا اُگنا اور ہڈیوں کا بڑھنا بھی ثابت ہوجاتاہے،جس طرح کہ پستان کے خالص دودھ سے ہوتا ہے ،جبکہ متصل پیاجاتاہے،سو یہ تحریم میں اس کے مساوی ہے۔فرمانِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ((يَحْرُمُ مِنْ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنْ النَّسَبِ))[1] ”رضاعت سے بھی وہی رشتے حرام ہوتے ہیں جو نسب سے ہوتے ہیں۔“ نیز فرمایا: ((لا يحرم من الرضاع إلا ما أنبت اللحم وأنشز العظم))[2] [1] ۔ صحيح البخاري رقم الحديث(2645) صحيح مسلم(9/1445) [2] ۔ صحيح ،سنن أبي داود (2059) سنن الدارقطني (4/172) رقم الحديث(4)