کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 308
364۔دو بچوں نے مختلف اوقات میں ایک ہی عورت کا دودھ پیا۔ جب کئی اشخاص نے ایک عورت کا یا ایک آدمی کی بیویوں کا دودھ پیا،ہرایک نے دوسال کی عمر کے اندر پانچ دفعہ پیا تو وہ سب رضاعی بھائی ہیں،چاہے ایک وقت میں پیا ہو یا متعدد اوقات میں ہرایک دوسرے کی اولاد کا رضاعی چچا ہے،وہ ایک دوسرے کے محرم ہیں،ان کی آپس میں شادی نہیں ہوسکتی،ہاں ان میں سے ایک دوسرے کی اس بہن سے نکاح کرسکتا ہے جس نے ان کے ساتھ دودھ نہیں پیا تھا۔ (اللجنة الدائمة:15712) 365۔دودھ پینے کی مقدار جو باعث حرمت ہے۔ علماء کا اختلاف ہے کہ رضاعت سے کیا مُراد ہے؟کیارضاعت یہ ہے کہ پستان کو چوسنا اور پھر چھوڑدینا،اگرچہ اس وقت دوبارہ منہ میں ڈال لینا؟یا رضاعت اسے کہتے ہیں کہ ایک بارپینا اور پھر دوبارہ پینا اور یہ پہلی مرتبہ سے بالکل علیحدہ اور جدا ہو؟یہ دو قول ہیں،میرے نزدیک راجح یہ ہے کہ ایک بار پینا دوسری بار پینے سے بالکل جداہو،نیز دونوں میں واضح امتیاز ہو،محض پستان چھوڑنا اور فوراً دوبارہ منہ میں ڈال لینا یہ رضاعت ثانی نہیں ہے،کیونکہ یہاں ایک بارپینا کھانے والے کی نسبت سے ایک بار کھانے کی مثل ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((إِنَّ اللّٰهَ لَيَرْضَى عَنْ الْعَبْدِ أَنْ يَأْكُلَ الْأَكْلَةَ فَيَحْمَدَهُ عَلَيْهَا أَوْ يَشْرَبَ الشَّرْبَةَ فَيَحْمَدَهُ عَلَيْهَا))[1] ” یقیناً اللہ تعالیٰ اس بندے سے راضی ہوتاہے جو ایک با رکھاتا ہے [1] ۔صحیح ،صحیح مسلم(89/2734)