کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 307
”وہی رضاعت باعث حرمت ہے جو گوشت اگائے اور ہڈی بڑھائے۔“ یعنی جس سے غذائیت ملے اور گوشت پیدا ہو اور یہ کم از کم دس مرتبہ پینے سے ہوتا ہے،صحیح یہ ہے کہ پانچ دفعہ پینا حرمت ثابت کرتاہے کیونکہ اس بارے حدیث واضح ہے،پھر ”رضعہ“ نام ہے پستان بچے کے منہ میں ڈالنے اور پھر نکالنے کا،چاہے لمبی دیر پیے یا تھوڑی دیر،اورایک قول یہ ہے کہ”رضع“ سیر ہونے کو کہتے ہیں،لیکن پہلی بات زیادہ صحیح ہے۔واللہ اعلم۔ (ابن جبرين:الفتاويٰ:11/6) 363۔رضاعت سے بھی وہی رشتے حرام ہوتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں۔ رضاعی بیٹے کی بیوی نسبی بیٹے کی بیوی کی طرح ہے،ان میں سے ہر ایک خاوند کے نسبی یا رضاعی باپ دونوں پر حرام ہے،کیونکہ فرمانِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ((يَحْرُمُ مِنْ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنْ النَّسَبِ))[1] ”رضاعت سے بھی وہی رشتے حرام ہوتے ہیں جو نسب سے ہوتے ہیں۔“ لیکن رضاعت میں شرط ہے کہ دو سال کے اندر اندر ہو،پانچ یازیادہ دفعہ ہو،اس صورت میں وہ محرم ہوگا۔بیوی کی رضاعی ماں بھی اسی طرح حرام ہے جس طرح بیوی کی نسبی ماں حرام ہے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:”رضاعت سے بھی وہی رشتے حرام ہوتے ہیں جو نسب سے ہوتے ہیں۔“ اس بناء پر وہ اپنی بیوی کی رضاعی ماں کا محرم ہوگا۔(اللجنة الدائمة:18899) [1] ۔ صحيح البخاري رقم الحديث(2645) صحيح مسلم(9/1445)