کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 306
یا آدھی مرتبہ پیناحرام کردیتا ہے،کیونکہ آیت مطلق ہے اور جسے دودھ پینا کہہ سکتے ہیں اس پر رضاعت کا اطلاق ہوگا،دوسروں نے کہا کہ تین دفعہ پیناحرمت ثابت کرتا ہے،حدیث پاک ہے: ((لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ والْمَصَّتَانِ،لاَ تُحَرِّمُ الإِمْلاَجَةُ وَلاَ الإِمْلاَجَتَانِ))[1] ”ایک دفعہ چوسنا یا دو دفعہ چوسنا حرام نہیں کرتا اور نہ ہی ایک مرتبہ پستان منہ میں ڈالنااوردومرتبہ منہ میں ڈالنا حرام کرتا ہے۔“ اس کا مفہوم یہ ہے کہ دو سےزیادہ مرتبہ یعنی تین یا زیادہ دفعہ چوسنا حرام کرتا ہے،بعض کا خیال ہے کہ پانچ دفعہ پیناحرام کرتا ہے،کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سہلہ رضی اللہ عنہا کو حکم دیا تھا کہ سالم کو پانچ دفعہ پلائے،اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کافرمان ہے: ((كَانَ فِيمَا أُنْزِلَ مِنَ الْقُرْآنِ: عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ يُحَرِّمْنَ، ثُمَّ نُسِخْنَ، بِخَمْسٍ مَعْلُومَاتٍ))[2] ”جو احکامات اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں نازل کیے ان میں ہے کہ دس معلوم مرتبہ دودھ پلانا حرام کرتا ہے،پھر یہ پانچ معلوم دفعہ پلانے سے منسوخ ہوگیا۔“ بعض نے کہا کہ دس مرتبہ پینے سے حرمت ثابت ہوتی ہے،کیونکہ حدیث ہے: ((لا يحرم من الرضاع إلا ما أنبت اللحم وأنشز العظم))[3] [1] ۔صحيح ،سنن النسائي ،رقم الحديث(3308) سنن ابن ماجه (1940) [2] ۔متفق عليه۔صحيح البخاري(3670) صحيح مسلم(25/1452) [3] ۔ صحيح ،سنن أبي داود (2059) سنن الدارقطني (4/172) رقم الحديث(4)