کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 297
جواب۔عورت کے لیے جائز نہیں کہ اپنے خاوند کے مال میں سے بغیر اجازت کے کچھ لے،کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے بندوں پر حرام قراردیا ہے کہ ایک دوسرے کا مال لیں،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر اس کا اعلان کیا: ((فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا ، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا ، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا ، فَأَعَادَهَا مِرَارًا ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ : اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ ، اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ))[1] ”بے شک تمہارے خون،تمہارے مال اورتمہاری عزتیں تم پر حرام ہیں،جیساکہ تمہارے اس دن کی حُرمت تمہارے اس مہینے اور شہر میں ۔کیا میں نے پہنچادیا؟“ لیکن اگر اس کا خاوند بخیل ہو اورمعروف طریقے کے مطابق اسے اتنا بھی نہ دے جو اسے اور اس کے بیٹے کوکفایت کرجائے تو وہ اپنے اور اپنے بیٹے کے خرچ کے مطابق لے سکتی ہے،لیکن ضرورت سے زیادہ نہ لے اور نہ ہی اپنی اور اپنے بیٹے کی ضرورت سے زیادہ خرچ کرے،ہندبنت عتبہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اپنے خاوند کی شکایت کرتے ہوئے یوں گویا ہوئی کہ وہ ایک بخیل آدمی ہے،وہ مجھے اتنا خرچ نہیں دیتا جو مجھے اور میرے بیٹے کو کافی ہو تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((خُذِي مِنْ مَالِهِ بِالْمَعْرُوفِ مَا يَكْفِيكِ وَيَكْفِي بَنِيكِ)) ” اس کے مال میں سے اتنا لے جتنا تجھے اورتیرے بیٹے کے لیے کافی ہو۔“ یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ الفاظ بیان فرمائے: ((خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ، بِالْمَعْرُوفِ))[2] [1] ۔متفق عليه،صحيح البخاري (105) صحيح مسلم(29/1679) [2] ۔صحيح البخاري ،رقم الحديث (5364)