کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 296
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ، بِالْمَعْرُوفِ))[1] ”تومعروف طریقے کے مطابق اتنا لے لے جتنا تجھے اور تیرے بیٹے کو کفایت کرجائے۔“ (اللجنة الدائمة:5101) 350۔بیوی کا اپنے خاوند کے مال سے صدقہ کرنا۔ تیرے لیے جائز نہیں کہ تو اپنے خاوند کے مال سے اس کی رضا مندی کے بغیر صدقہ کرے یا اتنا کرسکتی ہے جتنا عادتاً اس کی طرف سے اجازت سمجھتی ہے۔(اللجنة الدائمة:5101) 351۔بیوی کا اپنے گھر والوں کے لیے خاوند کے مال سے بغیر بتائے کوئی چیز خریدنا۔ تیرے لیے جائز نہیں کہ تو اپنے خاوند کے مال سے بغیر اس کے علم کے کوئی چیز لے سوائے اس کے جو تجھے اور تیری اولاد کوکفایت کرے،سو تیرے لیے جائز نہیں کہ اپنے گھر والوں یا کسی کے لیے اس کے مال میں سے کوئی چیز خریدے جب تک کہ وہ تجھے اجازت نہ دیدے۔(اللجنة الدائمة:5101) 352۔مسئلہ۔ سوال۔عورت اپنے خاوند کے مال سے جو اس کے خرچ میں کنجوسی سے کام لیتاہے بغیر بتائے لے لیتی ہے اور قسم اٹھاتی ہے کہ اس نے کچھ نہیں لیا۔ [1] ۔صحيح البخاري ،رقم الحديث (5364)