کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 292
341۔عدت كے اختتام پر غسل كرنا۔ عدتِ وفات كے اختتام پر کوئی غسل معین نہیں ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عام ہے: ((مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ))[1] ”جس نے ہمارے اس معاملے میں ایسی چیز ایجاد کی جو اس میں سے نہیں تو وہ مردود ہے۔“ 342۔عدت پوری ہوجانے کے بعد عورت کا فاتحہ پڑھنا۔ عدت ختم ہوجانے کے بعد فاتحہ پڑھنا پھر اس کے بعد غسل کرنا اس کی شریعت میں کوئی اصل نہیں ہے،اس حالت میں اس کا ترک لازم ہے۔(اللجنة الدائمة:21635) 343۔عورت کے سوگ منالینے کے بعد اس کی خاطر خوشی کا اہتمام کرنا۔ وہ فنکشن جو عورت کے لیے عدتِ وفات گزارنے کے بعد منعقد کیے جاتے ہیں اگر عادتاً اورعورت کی عزت افزائی کے طور پر ہوں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں اور اگر دین اور اس عقیدہ کے ساتھ ہوں کہ یہ مشروع ہیں تو ناجائز ہیں،کیونکہ پھر یہ بدعت کے زمرے میں آئیں گے۔(اللجنة الدائمة:18083) [1] ۔ صحيح البخاري رقم الحديث (2550) ،صحيح مسلم رقم الحديث(1718)