کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 290
ذریعہ اس کے علاوہ ،لیکن اجنبیوں سے پردے میں رہے۔(اللجنة الدائمة:18083) 337۔سوگ منانے والی عورت کا نمازِ تراویح کے لیے نکلنا۔ خاوند کا سوگ منانے والی پر لازم ہے کہ اس کے گھر میں رہے،اپنی ضروری حاجات کو پورا کرنے کے علاوہ گھر سے نہ نکلنے ،نمازتراویح اورتہجد کے لیے مسجد میں نہیں آسکتی،ان کی ادائیگی اپنے گھر میں ہی کرے۔ (اللجنة الدائمة:14259) 338۔خاوند کے علاوہ کسی اور پرسوگ منانا۔ سوال۔فقہاء فرماتے ہیں:بیوی کے علاوہ دوسری عورت کے لیے جائز ہے کہ زیب وزینت اور خوبصورت لباس تین دن تک ترک کردے ،کیا یہ بات صحیح ہے؟ یہ صحیح ہے۔اس کے بارے میں حدیث بھی ہے: ((لا تحد امرأة على ميِّتٍ فوقَ ثلاثٍ إلَّا على زوجٍ أربعةَ أشهُرٍ وعشْرًا))[1] ” کسی عورت کے لیے جائز نہیں کہ میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے سوائے خاوند کے کہ اس کا سوگ چار ماہ دس دن ہے۔“ (ابن باز:مجموع الفتاويٰ والمقالات:22/228) 339۔ماں کے خاوند پر ماں کے ساتھ اس کی بیٹی کا بھی سوگ منانا۔ بیٹی کے لیے جائز نہیں کہ اپنی ماں کے ساتھ اس کے خاوند کا سوگ [1] ۔ متفق عليه :صحيح البخاري (1280) ،صحيح مسلم(58/1486)