کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 283
کئی اسباب ذکر فرمائے ہیں،اس میں اصل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ((فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ)) (التغابن :16) ”سو اللہ سے ڈرو جتنی تم طاقت رکھو۔“ نیز فرمان ِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ((وإذَا أَمَرْتُكُمْ بِأَمْرٍ فَأْتُوا منه ما اسْتَطَعْتُمْ))[1] ”جب میں تمھیں کوئی حکم دوں تو اتنا کرو جتنی استطاعت رکھتے ہو۔“(ابن باز:مجموع الفتاويٰ والمقالات:22/202) 321۔عدتِ وفات گزارنے والی کے احکامات۔ 1۔خاوند کی وفات کے وقت جس گھر میں رہائش پذیر تھی اس میں رہے گی،کسی حاجت یاضرورت کے بغیر وہاں سے نکل نہیں سکتی،جیسا کہ بیماری کے وقت ہسپتال جانا۔بازار سے ضرورت کی چیز(روٹی وغیرہ) خریدنے کے لیے جانا،جبکہ کوئی اور یہ کام کرنے والا نہ ہو۔ 2۔خوبصورت ملبوسات سے اجتناب کرے اور عام سادہ لباس پہنے گی۔ 3۔خوشبو کی جمیع اقسام سے اجتناب کرے گی،ہاں حیض سے فارغ ہونے کے بعدخوشبو کا استعمال کرسکتی ہے۔ 4۔سونے،چاندی،ہیرے اور ہر قسم کےزیورات سے گریزاں رہے،چاہے ہار ہوں یا کنگن ہوں یا جیسے بھی ہوں۔ 5۔سرمے کا استعمال بھی نہ کرے ،کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوگ منانے والی کوان کاموں سے منع کیاہے۔ [1] ۔صحيح البخاري،رقم الحديث(6858) صحيح مسلم ،رقم الحديث (1337)