کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 280
”قروء“ سے مراد حیض ہے،نیز فرمایا: ((وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِن نِّسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ ۚ وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ ۚۚ)) (الطلاق:4) ”اور وہ عورتیں جو تمہاری عورتوں میں سے حیض سے نااُمید ہوچکی ہوں،اگر تم شک کروتو ان کی عدت تین ماہ ہے اور ان کی بھی جنھیں حیض نہیں آیا۔اور جو حمل والی ہیں ان کی عدت یہ ہے کہ وہ اپنا حمل وضع کردیں۔“ (اللجنة الدائمة:19954) 317۔مسئلہ۔ سوال۔ایک عورت خاوند سے کہتی ہے کہ اگر تو مجھ سے پہلے فوت ہوگیا تو مجھے سوگ معاف کردینا اس نے معاف کردیا،پھر تقدیرالٰہی سے وہ پہلے فوت ہوگیا۔ جواب۔خاوند کی وفات کے بعدسوگ منانا بیوی پر لازم ہے،خاوندخود اسے معاف کرنے کا اختیار نہیں رکھتا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ((لا يحِلُّ لامرأةٍ تؤمِنُ باللّٰهِ واليومِ الآخِرِ أنْ تحِدَّ على ميِّتٍ فوقَ ثلاثٍ إلَّا على زوجٍ فإنَّها تحِدُّ عليه أربعةَ أشهُرٍ وعشْرًا))[1] ”اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان رکھنے والی کسی عورت کے لیے جائز نہیں کہ میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے سوائے خاوند کے کہ اس کا سوگ چار ماہ دس دن ہے۔“(اللجنة الدائمة:2493) [1] ۔ متفق عليه :صحيح البخاري (1280) ،صحيح مسلم(58/1486)