کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 279
((وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ)) (الطلاق:4) ”اور جو حمل والی ہیں ان کی عدت یہ ہے کہ وہ اپنا حمل وضع کردیں۔“ جس حاملہ عورت کا خاوند فوت ہوگیا اس کے سوگ کی عدت اور مطلقہ حاملہ کی عدت ایک ہی ہے،جیساکہ آیت کے عموم کے پیش نظر اہل علم نے فتویٰ دیاہے،اور صحیحین میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا کو وضع حمل کے ساتھ ہی عدت سے نکل جانے کا حکم دیا تھا،کیونکہ وہ اپنے فوت شدہ خاوند کی عدت سے وضع حمل کی بناء پر خارج ہوئی تھی اور اس نے خاوند کی وفات کے کچھ عرصہ بعد ہی بچہ جنم دے لیا تھا۔[1] (ابن باز:مجموع الفتاويٰ والمقالات:22/226) 316۔آدمی نے اپنی بیوی کو طلاق دی لیکن ایک سال بعد طلاق کے کاغذ سفرسے بھیجے۔ عدت کی ابتداء خاوند کے طلاق دینے کی تاریخ سے شروع ہوجاتی ہے نہ کہ طلاق کے کاغذ پہنچنے سے۔عورت طلاق ملنے کے بعد تین حیض عدت گزار کر ہی شادی کرسکتی ہے ،اگرحیض والیوں سے ہے،اور اگر اسے حیض نہیں آتا تو طلاق ملنے کے بعد تین ماہ گزرنے کا انتظار کرے گی اوراگرحاملہ ہے تو اس کی عدت وضع حمل ہے،فرمان باری تعالیٰ ہے: ((وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ)) (البقرة:228) ”اور وہ عورتیں جنھیں طلاق دی گئی ہے اپنے آپ کو تین حیض تک انتظار میں رکھیں۔“ [1] ۔ صحيح البخاري ،رقم الحديث (5319) صحيح مسلم(57/1485)