کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 278
314۔جس کا خاوند گم ہوگیا اور پھر مردہ حالت میں ملا۔ اس پر لازم ہے کہ جب وہ مردہ حالت میں ملانئے سرے سے عدت گزارے کیونکہ اب یقین آیا ہے،یہ مدت چار ماہ اوردس دن ہے،اور اس پر سوگ بھی منائیں گے،اگر حاملہ ہے تو وضع حمل کے ساتھ عدت سے نکل آئے گی۔فرمان باری تعالیٰ ہے: ((وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا)) (البقرة:234) ”اور جو لوگ تم میں سے فوت کیے جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں وہ (بیویاں) اپنے آپ کو چار مہینے اور دس راتیں انتظار میں رکھیں۔“ نیز فرمایا: ((وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ)) (الطلاق:4) ”اور جو حمل والی ہیں ان کی عدت یہ ہے کہ وہ اپنا حمل وضع کردیں۔“ اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا کو بچہ جننے کی وجہ سے عدت سے نکل جانے کافتویٰ دیا تھا۔[1] (ابن باز:مجموع الفتاويٰ والمقالات:22/218) 315۔حاملہ کی سوگ منانے کی عدت وضع حمل سے ختم ہوجاتی ہے۔ وضع حمل کے ساتھ ہی حاملہ کی مدتِ سوگ ختم ہوجاتی ہے،حاملہ عورتوں کے متعلق ارشادربانی ہے: [1] ۔صحيح البخاري ،رقم الحديث (5319) صحيح مسلم(57/1485)