کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 267
”جوآدمی بھی جانتے بوجھتے ہوئے غیر باپ کا دعوی کرتا ہے وہ کفر کرتا ہے۔“ نیز فرمایا: (مَنْ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ))[1] ”جس نے اپنے غیر باپ کا دعویٰ کیا اوروہ جانتا ہے کہ وہ اس کا باپ نہیں تو جنت اس پر حرام ہے۔“ ایک اور حدیث کے الفاظ ہیں: ((لا تَرْغَبُوا عَنْ آبائِكِمْ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ أَبيهِ فَهُوَ كُفْرٌ))[2] ”اپنے باپوں سے اعراض نہ کرو،جس نےاپنے باپ سے اعراض کیا اس نے کفر کیا۔“ جس نے غیر باپ کی طر ف اپنی نسبت کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ڈرایا ہے اور سخت وعید بیان کی ہے، یہاں تک کہ اس پر کفر کا حکم لگایا ہے اور جنت حرام قرادی ہے، جس آدمی سے یہ ارتکاب ہوا وہ اس سے لاتعلق ہو جائےاور اپنی تقصیر پر اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ واستغفار کرے۔(اللجنة الدائمة:1710) 306۔مسئلہ۔ میں نے ایک لڑکی کو متبنیٰ بنا کر اس کی تربیت کی، اس کے جوان ہونے کے بعد میں نے ارادہ کیا ہے کہ اس کی شادی اپنے کسی بیٹے سے کرادوں، یہ حلال ہے یا حرام ہے؟ [1] متفق عليه۔صحيح البخاري(6766) صحيح مسلم(115/63) [2] متفق عليه۔صحيح البخاري(6768) صحيح مسلم(113/62)