کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 266
میں خود مختار ہو جائے، اس پر ہم اُمید کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ بھی اس کے ساتھ اچھائی کا برتاؤ کریں گے، جیسا کہ اس نے اس بچی پر احسان کیا، لیکن وہ اس کا باپ ہے نہ محرم ہے، لازم ہے کہ لڑکی اس سے پردہ کرے،اس لڑکی کا معاملہ اس کے ساتھ ایک اجنبی کا ساہے، لہٰذا عدم خلوت اور حجاب کی پابندی میں وہ اس کے احسان کا بدلہ احسان سے اور اچھائی سے دیتی رہے۔ (اللجنة الدائمة:10632) 305۔جس نے دنیاوی مصلحت کی خاطر جہالت کے سبب اپنے باپ کا نام بدل دیا۔ دنیاوی مصلحت کے لیے کسی انسان کا اپنے باپ کے نام کو بدلنا ناجائز ہے، کیونکہ کسی اور سے نسبت قائم کر کے یہ شان و شوکت اور وجاہت کا خواہاں ہے اوراپنے باپ کے نسب سے بلند تر ہونا چاہتا ہے، یہ کبیرہ گناہ ہے، اس لیے کہ اس میں جھوٹ، وفریب، باپ کی حقارت اور اس کے نسب سے اعراض سے اس کی ذلت و پسپائی ہے، اور اگر اس کا مقصد مال ، یا وراثت یا حکومت وغیرہ کا حصول ہے تو یہ بھی کبیرہ گناہ ہے، کیونکہ اس میں جھوٹ ، دھوکہ نسبی فریب اورباطل طور پر مال کھانا ہے، پھر اس میں نسب کو بدلنا بھی ہے یا ایسی چیز ہے جو نسب بدلنے کی طرف لے جاتی ہے اور نسب کو خلط ملط کردیتی ہے، نیز وہ نکاح اور مال وغیرہ جو اللہ تعالیٰ نے حلال کیے ہیں، وہ حرام اور جو حرام کیے ہیں وہ حلال کرنے کا بھی گھناؤنا جرم ہے، یقیناً یہ بہت بڑا فساد ہے۔ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ((ليسَ مِن رَجُلٍ ادَّعَى لِغَيْرِ أبِيهِ وهو يَعْلَمُهُ إلَّا كَفَرَ))[1] [1] متفق عليه۔صحيح البخاري(3508) صحيح مسلم(112/61)