کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 264
کا فرمان ہے: ((الولد للفراش وللعاهر الحجر))[1] ”بچہ بستر کے لیے ہے اور زانی کے لیے پتھر ہیں۔“ زانی کے لیے جائز ہے کہ عدت گزرنے اور خالص توبہ کرنے کے بعد زانیہ سے شادی کر لے۔ (اللجنة الدائمة:5236) 301۔ولدِزنا کا جنت میں جانا ولدِ زنا کو اس کی ماں اور اس کے ساتھ زنا کرنے والے کا گناہ لاحق نہیں ہوگا اور نہ ہی وہ گناہ جس کا ان دونوں نے ارتکاب کیا، کیونکہ یہ اس کاکام نہیں ہے،بلکہ ان دونوں کا گناہ انھی پر ہے۔فرمان باری تعالیٰ ہے: ((لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ)) (البقرة:286) ”اسی کے لیے ہے جو اس نے(نیکی) کمائی اور اسی پر ہے جو اس نے(گناہ)کمایا۔“ نیز فرمایا: ((وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ)) (الفاطر:18) ”اور کوئی بوجھ اٹھانے والی(جان) کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اُٹھائے گی۔“ اس کی صورت حال دوسروں کی طرح ہی ہے،اگر اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے، عمل صالح بجالاتاہے اور اسلام پر مرتا ہے تو اس کے لیے جنت ہے اور اگر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتا ہےاور کفر پر مرتا ہے تو جہنمیوں سے ہے، اور اگر نیک اور بدمِلےجُلے اعمال کرتا ہے اور اسلام پر مرتا ہے تو اس کا معاملہ اللہ [1] متفق عليه۔صحيح البخاري(2053) صحيح مسلم(36/1457)