کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 259
نافرمانی کے سبب تھا،یعنی بیوی پر ازدواجی حقوق جو واجب ہیں ان میں خاوند کی نافرمانی کرتی ہے،خاوند کے پندونصائح کرنے اور خدا خوفی دلانے کے باوجود اپنے رویے پرقائم رہتی ہے تو اسے چاہیے اسے بستر میں چھوڑدے،جب تک بھی چاہے،تاآنکہ وہ اپنی چاہت سے حقوق بجا لانے کے لیے تیار ہوجائے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی بیویوں کو چھوڑا تھا اور ایک ماہ تک ان کے پاس نہیں تشریف لائے تھے،لیکن بات چیت تین دن سے زیادہ ترک نہ کرے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان فرماتے ہیں: ((لا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أنْ يَهْجُرَ أخاهُ فَوْقَ ثَلاثٍ أيام))[1] ”اور کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ اپنے بھائی کو تین دنوں سے زیادہ چھوڑے۔“ اگر بیوی کی تقصیر اور کوتاہی کے بغیر ہی خاوند چار ماہ سے زیادہ عرصہ تک بیوی کو چھوڑے رکھے،اگرچہ اس کی قسم نہ بھی اُٹھائے تو اس کے لیے”ایلاء“ والی مدت(چار ماہ) مقرر کی جائے گی،جب چار ماہ گزر جائیں اور بیوی سے اگلی جانب جماع نہ کیا،جبکہ یہ جماع پر قادرہو اور عورت بھی حیض یا نفاس میں نہ ہوتو پھر اسے طلاق دینے کا حکم دیا جائےگا،اگر بیوی سے رجوع پر انکاری ہے اور طلاق بھی نہیں دیتا تو قاضی طلاق دلوائے گا،یا عورت کو فسخ ِ نکاح سے جدا کردے گا،اگر وہ ایسا چاہتی ہو۔ (اللجنة الدائمة:20443) 291۔مسئلہ۔ سوال۔اس نے بیوی سے قسم اٹھائی کہ میں چار ماہ سے زیادہ مدت تجھ [1] ۔متفق عليه۔صحيح البخاري(6065) صحيح مسلم(23/2559)