کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 248
275۔اس حالت میں خاوند کا اپنے مال میں سے بیوی کی طرف سے کھانا کھلانا۔ کوئی مضائقہ نہیں کہ اس کی اجازت کے ساتھ خاوند اس کی طرف سے کھلادے، اگربیوی اجازت دیدے یا اس سے اجازت لے کر اس کے مال میں سے کھلائے تو بھی کوئی حرج نہیں۔ (ابن عثيمين :نور علي الدرب،:13) 276۔بیوی ہمیشہ اپنے خاوند سے کہتی ہے:تو میرا خاوند ہے، باپ ہے،بھائی ہے اور دنیا میں میرا سب کچھ تو ہی ہے۔ یہ کام اسے تجھ پر حرام نہیں کرتا کیونکہ اس کے قول ”تو میرا باپ یا بھائی وغیرہ“ ہے کا مطلب ہے کہ تو عزت و احترام میں میرے باپ اور بھائی کی طرح ہے، وہ تجھے اپنے اوپر حرام قراردینے میں باپ یا بھائی کی مانند نہیں کہتی، اور اگر فرض کر لیا جائے کہ اس کا یہی ارادہ ہے تو بھی تو اس پر حرام نہیں ہوگا، کیونکہ ظہار عورتوں کی طرف سے ان کے خاوندوں سے نہیں ہوتا،بلکہ صرف مردوں کی طرف سے ان عورتوں سے ہوتا ہے، اس لیے جب کوئی عورت اپنے خاوند سے ظہار کرتی ہے، بایں طور کہ وہ کہے تو میرے باپ یا میرے بھائی وغیرہ کی پیٹھ کی مانند ہے،یقیناً یہ ظہار نہیں ہوگا، بلکہ اس کا حکم قسم کا ہوگا، اس کا مطلب یہ ہوا کہ عورت قسم کے کفارہ سے ہی خاوند کو اپنے اوپر قدرت دے پائی گئی،چاہے خاوند کے قریب آنے سے پہلے کفارہ دیدےیا چاہے تو بعد میں، کفارہ قسم یہ ہے: دس مسکینوں کو کھانا کھلانا یا ان کو کپڑے پہنانا یا گردن آزاد کرنا، اگر یہ نہ کر سکے توتین دن کے مسلسل روزے رکھنے ہیں۔ (ابن عثيمين :نور علي الدرب،:19)