کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 246
اس سے پہلے کہ وہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں، یہ ہے وہ(کفارہ) جس کے ساتھ نصیحت کیے جاؤ گے اور اللہ اس سے جو تم کرتے ہو پوری طرح باخبر ہے۔پھر جو شخص نہ پائے تو دوپے درپے مہینوں کا روزہ رکھناہے،اس سے پہلے کہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں، پھر جو اس کی(بھی) طاقت نہ رکھے تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔“ ہم اس ظہار کرنے والے سے کہیں گے: تجھ پر گردن آزاد کرنا واجب ہے، اگر تونہ کر سکے تو دو مہینے کے مسلسل روزے رکھو، ایک دن بھی ناغہ نہ کر سوائے سفر یا بیماری کے عذر کے، اگر ایسا بھی نہ کرسکے تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلادے، اس میں کفارہ ترتیب کے اعتبار سے ہے نہ کہ اختیاری، ظہار والے کے لیے یہ بھی حلال نہیں کہ کفارہ ادا کرنے سے پہلے اپنی بیوی سے جماع کرے۔فرمان باری تعالیٰ ہے: ((مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا)) (المجادلة:3) ”اس سے پہلے کہ وہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں“ اگر اس نے کفارہ ادا کرنے سے پہلے جماع کر لیا تو گنہگارہو گا، اس پر لازم ہے کہ توبہ کرے، اہل علم کا کہنا ہے: اس پر لازم ہے کہ نئے سرے سے روزے رکھے، اس بنا پر اگر اس نے جماع کیا اور باقی صرف پانچ روزے رہتے تھے تو ضروری ہے کہ نئے سرے سے دو مہینوں کے روزے رکھے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے شرط عائد کی ہے: ((مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا)) (المجادلة:3)