کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 240
اسلام میں ناشکری کو ناپسند کرتی ہوں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((أتردِّينَ عليهِ حديقتَهُ ؟ قالَت : نعَم قالَ رسولُ اللّٰهِ : اقبَلِ الحديقةَ وطلِّقها تَطليقةً))[1] ”کیا تو اس کا باغ واپس کرے گی؟اس نے کہا:ہاں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے خاوند سے فرمایا:باغ لے لواور اسے طلاق دے دو۔“ (ابن عثيمين :لقاء الباب المفتوح:8/26) 267۔عورت اپنے خاوند کو ناپسند کرتی ہے، کوئی دینی یا اخلاقی عیب بیان نہیں کرتی اور سارا حق مہر واپس کرتی ہے۔ جب عورت اپنے خاوند کو پسند نہ کرتی ہو اور ڈرے کہ اللہ کی حدود قائم نہیں رکھ سکے گی تو اس کے لیے خلع مشروع ہے، بایں طور کہ جو حق مہر خاوند نے دیا تھا وہ سارا واپس کرے اور مفارقت اختیار کر لے، ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیوی کی حدیث کی بنیاد پر کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا:یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں ثابت پر دین اور اخلاق کے حوالے سے کوئی قدغن نہیں لگاتی لیکن میں ناشکری سے خائف ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو اس کا باغ واپس کردے گی؟ اس نے کہا: ہاں ، واپس کرتی ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے خاوند کو حکم دیا اور وہ جدا ہو گیا۔ اور اگر دونوں کے مابین جھگڑا ہو جائے تو حاکم شرعی کی طرف رجوع کیا جائے گا، تاکہ ان کے درمیان فیصلہ کیا جاسکے۔ (اللجنة الدائمة:8990) [1] صحيح البخاري،رقم الحديث(5273)