کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 237
263۔ بیٹوں اور بیوی پر لعنت کرنا طلاق نہیں سمجھی جائے گی۔ بیوی کو لعن طعن کرنا جائز نہیں اور نہ ہی یہ طلاق ہے، بلکہ وہ اس کی عصمت میں باقی رہے گی اور آدمی پر لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ سے توبہ کرے اوربیوی سے بھی اس کی معافی مانگے، اس طرح بیٹوں کو اور دیگر مسلمانوں کو گالی دینا بھی جائز نہیں۔ فرمان نبوی ہے: ((سِباب المُسْلِمِ فُسوقٌ، وقِتَالُهُ كُفْرٌ))[1] ”مسلمان کو گالی دینا بڑا فسق اور اس سے لڑائی کرنا کفر ہے۔“ نیز فرمایا:((لَعْنُ الْمُؤْمِنِ كَقَتْلِهِ))[2] ”مومن پر لعنت کرنا اسے قتل کرنے کے مترادف ہے۔“ یہ دونوں صحیح حدیثیں اس بات پر دلالت کر رہی ہیں کہ مسلمان کا اپنے بھائی پر لعنت کرنا کبیرہ گناہوں سے ہے،جس سے بچنا ضروری ہے، زبان کی حفاظت کرنی چاہیے اور اتنے بڑے گناہ سے اسے آلودہ نہیں کرنا چاہیے، اور بیوی کو لعنت کے سبب طلاق نہیں ہو جاتی بلکہ وہ اس کی عصمت میں ہی باقی رہے گی۔ (ابن باز:مجموع الفتاويٰ والمقالات:8/398) 264۔خاوند کے بانجھ ہونے کے سبب بیوی کا طلاق کا مطالبہ کرنا، درست ہے؟ اس مقصد کے لیے طلاق کا مطالبہ کرنے کا اسے پورا حق ہے، کیونکہ افزائش نسل نکاح کے مقاصد میں سے ہے۔ (اللجنة الدائمة:10733) [1] متفق عليه :صحيح البخاري (48) ،صحيح مسلم(116/46) [2] متفق عليه :صحيح البخاري (6105) ،صحيح مسلم(176/110)