کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 236
262۔ طلاق بائنہ۔ مسند احمد اور صحیح مسلم میں ثابت ہے، فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا ثلاثہ کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ليس لها سكنٰى ولا نفقة)[1] ”نہ اس کے لیے رہائش ہے اور نہ خرچ۔“ ((طَلّقَنِي زَوْجِي ثَلاَثاً عَلَى عَهْدِ النبيّ صلى اللّٰه عليه وسلم. فَلَمْ يَجْعَلْ لِي نَفَقَةَ ولاَ سُكْنَى))[2] ”مجھے میرے خاوند نے تین طلاقیں دے دیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے نہ رہائش کا حکم دیا اور نہ نان و نفقہ کا۔“ اسے بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے علاوہ ایک جماعت نے بیان کیا ہے۔اور مسلم، ابو داؤد اور نسائی کی ایک روایت میں ہے: ((إلا أن تكوني حامِلًا ))[3] ”الایہ کہ تم حاملہ ہو۔“ یہ دلائل اس بات کی دلالت کر رہے ہیں کہ طلاق بائن والی عورت کو خرچہ ملتا ہے نہ رہائش ، ہاں اگر حاملہ ہو تو پھر خرچہ ملے گا،دلیل سابق کی وجہ سے، اور اس لیے بھی کہ حمل اس کی اولاد ہے، لہذا آدمی پر اس کا خرچہ لازم ہے، اور اس پر خرچ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ بیوی پر بھی خرچ کرے۔(اللجنة الدائمة:20978) [1] صحيح مسلم(44/1480) [2] صحيح مسلم(42/1480)،سنن الترمذي(1135) سنن ابن ماجه(2035) [3] صحيح مسلم(41/1480)