کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 232
((كَانَ الطَّلَاقُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ ا صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبِي بَكْرٍ ، وَسَنَتَيْنِ مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ ، طَلَاقُ الثَّلَاثِ وَاحِدَةً ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : إِنَّ النَّاسَ قَدِ اسْتَعْجَلُوا فِي أَمْرٍ قَدْ كَانَتْ لَهُمْ فِيهِ أَنَاةٌ ، فَلَوْ أَمْضَيْنَاهُ عَلَيْهِمْ ، فَأَمْضَاهُ عَلَيْهِمْ)) ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ابتدائی دو سالوں تک تین طلاقیں ایک ہی شمار کی جاتی تھیں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگوں کو جس چیز میں بڑی سنجیدگی سے کام لینا چاہیے تھا اس میں جلد بازی سے کام لینا شروع کردیا ہے، اگر ہم اسے ان پرنافذ ہی کردیں، سو اسے ان پر نافذ کردیا۔“ اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ تین شمار کرنا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اجتہاد تھا، عمر رضی اللہ عنہ کی نسبت سنت صحیحہ کو لینا زیادہ مناسب اور امت کے لیے زیادہ نرمی اور نفع والی بات ہے، نیز اس کی تائید وہ روایت بھی کرتی ہےجسے امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے مسند میں بسند جید حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے: ((أنَّ أبا ركانة طلَّق امرأته ثلاثًا، فحزن عليها، فردَّها عليه النبيُّ وقال: إنها واحدة))[1] ”بے شک ابو رکانہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں، پھر بیوی پر غم محسوس کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بیوی کو اس پر لوٹا دیا، اور فرمایا: یہ ایک ہی طلاق ہے۔“ (ابن باز:مجموع الفتاويٰ والمقالات:21/274) [1] حسن ۔سنن أبي داود ،رقم الحديث (2196)