کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 230
غور و فکر نہیں کرنا چاہیے، ذہن میں ایسی باتیں لانے سے شیطان خیالات اور وسوسوں کے ذریعے غالب آسکتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ تونے صرف دل سے کہا اور زبان سے تلفظ نہیں کیا، یہ کوئی طلاق نہیں، اور نہ ہی تجھ پر کچھ لازم آئے گا،جب تک تونے زبان سے نہ کہا۔ لیکن اگر تونے الفاظ بولے،اگرچہ آہستہ آواز سے ہی کہ صرف تمھیں سنائی دیں اور تیری زبان حرکت میں آئی ، تو یہ طلاق ہوگی، کیونکہ تونے لفظ بولے ہیں، اگرچہ تیری بیوی نہ بھی سنے، یا تیرے ارد گرد کسی نے بھی نہیں سُنے، لیکن جو دل میں پیدا ہونے والے خیالات اورو سوسے ہیں، جن میں تلفظ نہیں ہوتا، یہ نقصان دہ نہیں ہیں، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لیے معاف کردیا ہے جو بھی خیال دل میں پیدا ہو جب تک کلام نہ کرے یا عمل نہ کرے۔(الفوزان:المنتقيٰ:250) 253۔ایک آدمی نے وضاحت کیے بغیر دل میں اپنی بیوی کو طلاق دی۔ طلاق صرف بولنے یا لکھنے سے واقع ہوتی ہے، محض نیت یا دل کے خیال سے نہیں ہوتی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ((إنَّ اللّٰهَ تَجَاوَزَ لي عن أُمَّتي ما وسْوَسَتْ به صُدُورُهَا، ما لَمْ تَعْمَلْ أَوْ تَكَلَّمْ))[1] ”بے شک اللہ تعالیٰ نے میرے لیے میری امت سے درگزر کیا ہے، جو بھی ان کے دل میں خیال آئے جب تک عمل یا کلام نہ کریں۔“ [1] ۔ متفق عليه :صحيح البخاري (5269) ،صحيح مسلم(201/127)