کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 227
حتی کہ اگر اپنی بیوی کے بعض اخلاق کو ناپسند بھی کرتا ہے کہ جو عبرت و ناموس پر قدغن نہیں لگاتے تو اسے صبر کرنا چاہیے اور بیوی کو اپنے پاس رکھنا چاہیے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ((وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۚ فَإِن كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللّٰهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا)) (النساء:19) ”اور ان کے ساتھ اچھے طریقے سے رہو،پھر اگر تم انھیں ناپسند کروتو ہوسکتا ہے کہ تم ایک چیز کو ناپسند کرو اور اللہ اس میں بہت بھلائی رکھ دے۔“ 250۔وہ تاجر جو جان بوجھ کر خریدو فرخت میں طلاق کی قسم اٹھاتا ہے تاکہ سامان فروخت کر سکے۔ اس کا حکم یہ ہے کہ اس نے کبیرہ گناہ کا ارتکاب کیا ہے، حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ((ثلاثةٌ لا يُكلِّمُهم اللّٰه ولا ينظرُ إليهم يومَ القيامةِ ، ولا يُزكِّيهم ، ولهم عذابٌ أليمٌ . قلتُ : من هم يا رسولَ اللّٰهِ ! قد خابوا وخسِروا ؟ فأعادها ثلاثًا ، قلتُ : من هم خابوا وخسِروا ؟ فقال : المسبلُ ، والمَنَّانُ ، والمُنَفِّقُ سِلعتَه بالحلِفِ الكاذبِ ))[1] ”تین قسم کے اشخاص ایسے ہیں جن سے روز قیامت اللہ تعالیٰ کلام نہ کریں گے، نہ ان کی طرف دیکھیں گے، نہ ان کو پاک کریں گے [1] صحيح مسلم ،رقم الحديث(171/106)