کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 225
ہی دیا، لیکن اس نے اپنے باپ کو خرچ کردہ رقم واپس کردی۔ جواب۔پہلی بات یہ ہے کہ تیرے لیے اپنے باپ سے لڑنا جھگڑنا اورغصے ہونا جائز نہیں کہ معاملہ اس درجہ آگے بڑھ جائے، اس لیے کہ باپ کا حق ہے اور بیٹے کو چاہیے اس کا ادب کرے، اس کے سامنے جھک جائے، اس کی توقیرو عزت کرے اور جو کچھو تونے کیا سراسر غلط کیا، اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ و استغفار کر اور اپنے باپ سے بھی معافی کا خواستگار، ہو رہا تیرا قسم کا معاملہ کہ تیرا باپ کچھ بھی ادائیگی نہیں کرے گا تو اگر تونے خود ہی ادائیگی کردی ہے تو تجھ پر کچھ بھی نہیں ہے۔(الفوزان:المنتقيٰ:269) 247۔مسئلہ۔ سوال۔ اس آدمی کے بارے میں اسلام کا حکم جو بیوی کی ہر چھوٹی بڑی بات پر طلاق کی قسم اٹھاتا ہے ہے اور پھر قسم کو پورا نہیں کرتا، بسا اوقات ایک دن میں دس سے زیادہ مرتبہ قسم اٹھاتا ہے۔ آدمی کے لیے یہ جائز نہیں کہ ہر وقت طلاق طلاق کرتا رہے اور اس کی قسمیں اٹھاتا رہے، اس لیے کہ طلاق ایک خطرناک چیز ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((أبغض الحلال عند اللّٰه الطلاق))[1] ”حلال چیزوں میں سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو ناپسندیدہ چیز طلاق ہے۔“ طلاق کے ساتھ کھیلنا یاتساہل برتنا اور اس کا زیادہ استعمال یہ سب ناجائز ہے، مسلمان پر لازم ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے ڈرے۔اگر وہ طلاق کی قسم اٹھائے اور پھر اس قسم کی مخالفت کرے تو یہ دو چیزوں سے خالی نہیں: [1] ضعيف ، سنن أبي داود رقم الحديث (2178)،سنن ابن ماجه(2018)