کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 220
((قَدْ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ أَيْمَانِكُمْ)) (التحريم:2) ”بے شک اللہ نے تمھارے لیے تمھاری قسموں کا کفارہ مقرر کردیا ہے۔“اور یہ حکم طلاق کی قسم کو بھی شامل ہے۔واللہ اعلم۔ (الفوزان:المنتقيٰ:256) 238۔آدمی نے قسم اٹھائی کہ بیوی اگر یہ کام کرے گی تو طلاق دوں گا یا ظہار کر لوں گا،پھرسفر پرروانہ ہوگیا،اس کو معلوم نہیں کہ بیوی نے اس کی قسم کی مخالفت کی ہے یا نہیں؟ جب آدمی نے اپنی بیوی پر طلاق یا ظہار کی قسم اٹھائی، مقصد کسی چیز سے روکنا تھا تو صحیح قول کے مطابق قسم کا حکم لاگو ہوگا، وہ قسم کے کفارہ کی ادائیگی کرے گا اور آزاد ہو جائے گا، اور اگر بیوی نے وہ کام کیا جس سے خاوند نے منع کیا تھا تو اس کی قسم ٹوٹ جائے گی،اگرچہ عدم موجود گی کی وجہ سے اسے علم نہ بھی ہو، کیونکہ اس نے قسم اٹھائی تھی کہ وہ ایسا نہ کرے، لیکن بیوی نے قسم کی مخالفت کی ہے اور اگر بیوی نے جانتے بوجھتے خاوند کی قسم کی مخالفت کی تو قسم اٹھانے والا گنہگار بھی ہو گااور اس پر کفارہ ہو گا،اسے اپنی قسم ٹوٹنے کا علم ہو یا نہ ہو۔(الفوزان:المنتقيٰ:257) 239۔بیوی کو قطع رحمی کا حکم۔ سوال۔آدمی نے قسم اٹھائی کہ اگر اس کی بیوی اپنے باپ کے گھر گئی تو اسے تین طلاقیں ہو جائیں گی،پھر آدمی نے سمجھا کہ اس میں قطع رحمی ہے اور اسے جانے کی اجازت دے دی۔ جواب۔اگر طلاق سے تیرا مقصد اسے جانے سے روکنا تھا، طلاق دینا مراد نہیں