کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 215
((إِنَّمَا الطَّلاَقُ لِمَنْ أَخَذَ بِالسَّاقِ))[1] ”طلاق کا اختیار صرف اسے ہے جس نے پنڈلی پکڑی“ نیز فرمایا: ((لَا طَلَاقَ إِلَّا بَعْدَ نِكَاحٍ))[2] ”نکاح کے بعد ہی طلاق ہوتی ہے۔“ (اللجنة الدائمة:18213) 231۔نکاح سے قبل ہی طلاق کی قسم اٹھانا۔ نکاح سے قبل طلاق کو معلق کرنا درست نہیں، علماء کے دو اقوال میں سے زیادہ صحیح یہی ہے۔ جامع ترمذی میں روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ((لاطلاق قبل نكاح))[3] ”نکاح سے پہلے کوئی طلاق نہیں۔“(اللجنة الدائمة:6776) 232۔آدمی کا حالت غضب میں اپنی بیوی سے کہنا: تو کتنی بدکارہے؟! اگر اس عبارت سے طلاق کی نیت ہوگی تو ایک طلاق ہو جائے گی۔اور دوران عدت رجوع بھی جائز ہے، الایہ کہ اس سے پہلے دو طلاقیں ہو چکی ہوں، اس صورت میں حلال نہیں ہو گی حتی کہ کسی اور خاوند سے نکاح کر لے، اور پھر وہ اسے طلاق ديدے، پھر عقدِجدید سے اس کے ساتھ نکاح کیا جا سکتا ہے، اور اگر ان الفاظ سے طلاق کی نیت نہیں تھی تو پھر طلاق نہیں ہو گی۔ (اللجنة الدائمة:21410) [1] ۔ صحيح ۔سنن ابن ماجه ،رقم الحديث (2081) [2] ۔حسن صحيح۔سنن ابن ماجه ،رقم الحديث (2048) [3] حسن ۔سنن ابن ماجه ،رقم الحديث (2048)