کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 213
علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((رفع القلم عن ثلاثة عن النائم حتى يستيقظ، وعن الصبي حتى يبلغ، وعن المجنون حتى يعقل)[1] ”تین قسم کے اشخاص سے قلم اٹھا لیا گیا ہے:سوئے ہوئے سے یہاں تک کہ بیدار ہو جائے، بچے سے جب تک کہ بالغ ہو جائے اور پاگل سے یہاں تک کہ سمجھنے لگ جائے۔“(اللجنة الدائمة:13443) 227۔ مجبور اور گم گشتہ عقل کی طلاق۔ جب وہ طلاق کو سمجھتا ہو اور مجبور بھی نہ ہو، پھر طلاق دے تو طلاق واقع ہو جائے گی،اگر طلاق دیتے وقت اس کی عقل گم تھی یا عقل اتنی ناقص تھی کہ اسے کچھ پتہ نہیں تھا کہ کیا کہہ رہا ہوں؟یا اسے اس طرح مجبور کیا گیا کہ طلاق دینے پر آمادہ ہو گیا تو مذکورہ دونوں حالتوں میں اس کی طلاق واقع نہیں ہو گی۔(الفوزان:المنتقيٰ:274) 228۔ہم بستری سے پہلے ہی طلاق۔ سوال۔ایک آدمی نے ایک لڑکی سے شادی کی اور قبل از دخول ہی اسے طلاق دے دی، اب وہ رجوع کی خواہش رکھتا ہے۔ جواب۔جب مذکور آدمی نے دخول سے پہلے اپنی بیوی کو طلاق دی تو وہ اس سے جدا ہو گئی، اب عقد جدید اور مہر مثلی کے بغیر رجوع ممکن نہیں، جبکہ نکاح کی دیگر ارکان و شروط پوری ہوں۔(اللجنة الدائمة:157) [1] ۔صحيح۔ سنن أبي داود رقم الحديث (4403)