کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 208
عورت کو یہ شان بخشنا کتاب سنت کے خلاف ہے اور اصل وضع کے برعکس ہے، اگر طلاق کا اختیار عورتوں کو مل جائے تو بہت زیادہ شر اور بڑا فساد پھیلے لیکن اللہ تعالیٰ کی حکمت ہر حکمت کے اوپر ہے۔ ہاں اگر مرد عورت کو طلاق دینے کا ارادہ کرلے اور کہے:تو اپنی جان کی خود وکیل ہے اور پھر عورت اپنے آپ کو طلاق دے لے تو جائز ہے لیکن یہ کہ عورت کو کسی سابق شرط کی بنیاد پر ویسے ہی اختیار طلاق کا مجاز بنانا تو ایسی شرط باطل ہے،اگرچہ اس پر اتفاق بھی ہو، اس لیے کہ باطل شرطوں کا شراً کوئی اعتبار نہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَا طَلَاقَ إِلَّا بَعْدَ نِكَاحٍ، ولَا عِتْقَ إِلَّا بَعْدَ مِلْكٍ))[1] ”نہیں ہے طلاق مگر نکاح کے بعد ، اور نہیں آزاد کرنا مگر ملکیت کے بعد۔“ نیز فرمایا: ((إِنَّمَا الطَّلاَقُ لِمَنْ أَخَذَ بِالسَّاقِ))[2] ”طلاق کا اختیار صرف اسے ہے جس نے پنڈلی پکڑی“ ان تمام امور کی نسبت واضح ترین اللہ تعالیٰ کا مذکورہ بالا فرمان ہے: ((الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ وَبِمَا أَنفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ ۚ فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُ ۚ وَاللَّاتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا ۗ إِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا)) (النساء: 34) [1] ۔حسن صحيح۔سنن ابن ماجه ،رقم الحديث (2048) [2] ۔ حسن ۔سنن ابن ماجه ،رقم الحديث (2081)