کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 204
بخاری و مسلم میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ذکر کی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بہت غصے ہوئے فرمایا: ((مره فليراجعها،ثم ليمسكها حتي تطهر،ثم تحيض ،ثم تطهر،ثم يطلقها إِنْ شاء قبل أن يمسها،فتلك العدة التي أمراللّٰه أن تطلق لها النساء))[1] ”اسے حکم دو کہ اس سے رجوع کرے، پھر اسے روکے رکھے حتی کہ وہ پاک ہو جائے، پھر حیض والی ہو، پھر پاک ہو، اگر چاہے تو طلاق دے بغیر اسے چھونے کے، یہ عدت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو طلاق دینے کا حکم دیا ہے۔“ صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((ثم ليطلقها طاهرا أوحاملاً))[2] ”پھر وہ اسے طلادے جبکہ وہ طہر میں ہو یا حاملہ ہو۔“ (ابن باز:مجموع الفتاويٰ والمقالات:21/273) 217۔طلاق سَنی اور طلاق بدعی کے احکام کے متعلق حکم شرعی طلاق سنی یہ ہے کہ ایک ہی طلاق دے جبکہ بیوی حاملہ ہو یا ایسے طہر میں ہو جس میں اس کے ساتھ مباشرت نہیں کی، اور طلاق بدعی یہ ہے کہ ایک ہی لفظ سے اکٹھی تین طلاقیں دے، یا متعدد الفاظ سے دے،یا اسے ایک زیادہ [1] متفق عليه۔صحيح البخاري (5251) صحيح مسلم(1/1471) [2] صحيح مسلم رقم الحديث (5/1471)