کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 193
کرنے والا قریبی رشتہ داروں سے ہو یا کوئی غیرہو، امام نسائی، ابو داؤد،اور ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَيْسَ مِنَّا مَنْ خَبَّبَ امْرَأَةً عَلَى زَوْجِهَا، أَوْ عَبْدًا عَلَى سَيِّدِهِ))[1] ”وہ شخص ہم میں نہیں ہے جس نے بیوی کو خاوند کے بارے میں یا غلام کو اس کے آقا کے متعلق خراب کیا۔“ (اللجنة الدائمة:10426) 203۔بیٹی کا خاوند (داماد)محرموں میں سے ہے۔ بیٹی کا خاوند بھی اس کی ماں کے محرموں میں سے ہے۔بیان محرمات میں فرمان باری تعالیٰ ہے: ((وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ)) (النساء:23) ”اور تمھاری عورتوں کی مائیں۔“ اہل علم کا اس پر اجماع ہے کہ عورت کی ماں اور اس کی دادیاں اور نانیاں اس کے خاوند کے لیے حرام ہیں، مذکورہ بالا آیت کی روشنی میں، لیکن یہ ضروری نہیں کہ وہ اپنے داماد کے سامنے بے حجاب ہو یا اس کے ساتھ کھائے پیئے اور اگر ایسا کرتی ہے تو بہت اچھا اور احسن ہے تاکہ ان دونوں کے مابین الفت و محبت جاگزیں ہو،ساس اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرے جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے جائز رکھا ہے۔ (ابن باز:مجموع الفتاويٰ والمقالات:16/26) 204۔حرام مال سے شادی کرنا۔ جب توبہ تائب ہو جائے گا تو اللہ تعالیٰ توبہ قبول کر لیں گے، جبکہ مال محل نظر [1] صحيح ۔ سنن أبي داود رقم الحديث (2175)